ابنا: سابق امریکی سفارتکار ہنری کسنجر نے اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکہ میں صہیونی ریاست کی ساکھ شدید متاثر ہورہی ہے اور امریکی یہودی لابی زیادہ عرصے تک اسرائیل کا دفاع کرنے کےلئے متفق نہیں رہ سکے گی اور آئندہ 2022 تک اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ ادھر سیاسی تجزیہ نگار کیون پارٹ نے ہنری کسنجر کے اس خدشے کو درست قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ میں عام تاثر پایا جارہا ہے کہ اسرائیل اور اسکے حامیوں نے نائن الیون کا حملہ کرایا جبکہ امریکہ نے صہیونی ریاست کو محفوظ کرنے اور اسکے دفاع کےلئے جنگ میں نہ صرف اپنے اسٹرٹیجیک مفادات کو نقصان پہنچایا بلکہ بے شمار جانی ومالی قربانیاں بھی دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ صہیونی ریاست نے کسینجر کے اس بیان پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اسکی اس ناراضگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکی صدر باراک اوباما نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران صہیونی وزیر اعظم کی مقررہ ملاقات ملتوی کرکے پاکستان کے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ فلسطین آزاد ہوکر رہے گا، اس میں کسی کوشک نہيں ہونا چاہئے ، یہ رہبرانقلاب اسلامی کے جملے ہیں جوآپ نے فروری 2010میں فلسطینی رہنماؤں سے اپنے خطاب کے دوران ارشاد فرمائے تھے۔ مشرق وسطی کی ایک سب سے بڑی مشرک بات اسلام ہے ۔ گذشتہ صدیوں کے دوران اس علاقے پربڑی طاقتوں کی خاص سامراجی نظر رہی نظررہی ہے اوران کے مفادات میں پائے جانےوالے تضادات کی وجہ سے علاقے میں متعددجنگیں بھی ہوئيں۔ مبصرین کے مطابق اس علاقے میں ہونےوالی جنگوں کی اصل وجہ علاقے میں مغرب کی مداخلت پسندانہ پالیسیاں رہي ہيں اوراسی وجہ سے مغرب اورامریکہ سے جتنی زیادہ نفرت اس علاقے کے عوام کرتے ہيں اتنی کسی بھی علاقے کے عوام مغرب سے متنفرنہیں ہیں، اگرچہ آج پوری دنیا کی حریت پسند اقوام مغرب اورامریکہ سے سخت متنفر ہيں ۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس علاقے کے عوام میں ایران کی طرزپراسلامی حکومت کے قیام اور آزادانہ زندگی بسرکرنے کا رجحان تیزی سے پنپنے لگا اورآج پورے خطے کے عوام میں اسلام پسندی کا جذبہ پوری قوت کے ساتھ بیدارہوچکا ہے چنانچہ ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں ایران کے اسلامی انقلاب نے پورے علاقے پراپنا اثرمرتب کردیا ۔اوسلو اورمیڈریڈ معاہدوں کی ناکامی کے بعد فلسطین نے ایک نئے انتفاضہ کا رخ کیا، لبنان میں صہیونیوں نے جنوبی لبنان سے ذلت آمیزپسپائی اختیار کی، اوراس کے علاوہ ایران میں یکے بعد ديگرے تمام سیاسی اقتصادی اورسائنسی میدانوں میں ہونےوالی کامیابیوں نے علاقے کے عوام میں اورزیادہ حوصلہ پیدا کیا۔ لبنان میں اسلام پسندی نے سن دوہزار چھ میں صہیونی ریاست کوتینتیس روزہ جنگ میں بری طرح شکست دی اورفلسطین میں بھی غزہ کی بائیس روزہ جنگ کے دوران صہیونی ریاست کواسلامی بیداری کے ہاتھوں ہی حفت وذلت کواپنے گلے کا ہاربنانا پڑا ۔ الغرض اسلام پسندی کی لہرنے اکیسویں صدی کے آغازسے بہت تیزی کے ساتھ مشرق وسطی پراپنے اثرات مرتب کئے اورعلاقے کوایک طاقتوربلاک میں تبدیل کردیا۔ چنانچہ آج بہت سے مبصرین کا اس بات پرپورا یقین ہے کہ موجودہ صورت حال ایک بہت ہی روشن مستقبل کی آئینہ دارہے جس میں ایک ناقابل انکارحقیقت کا مشاہدہ کیا جارہا ہے اوروہ یہ ہے کہ ایک ایسااسلامی مشرق وسطی وجود میں آرہا ہے جس میں فلسطین کا مقام اوراہمیت بہت زیادہ ہوگی کیونکہ آج فلسطین کی آزادی کی جدوجہداوراس میں آنے والی تیزی نے علاقے میں مغرب کے تسلط کا گلا گھونٹ کررکھ دیا ہے اورنوبت یہ آن پہنچی ہے کہ خود مغرب بھی یہ کہنے پرمجبورہوگیا ہے کہ اب اسرائیل مغرب کے لئے کسی کام کانہيں رہ گیا کیونکہ اسرائیل مغرب کوکوئی فائدہ نہيں پہنچا سکتا بلکہ وہ تواب مغرب کے لئے وبال جان بن گیا ہے۔ البتہ اپنی بقا کے لئے صہیونی ریاست مسلسل ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور صدر ڈاکٹر احمدی نژاد کے بقول غاصب صہیونی ریاست علاقے میں بحران میں اضافہ کرنے کے درپے ہے۔ بہرحال فلسطین کی آزادی مشرق وسطی کی آزاد کی کنجی ہے اورسرزمین فلسطین ميں ایک اسلامی حکومت کی تشکیل ہی ایک اسلامی مشرق وسطی کے قیام کا راستہ ہموارکرے گی۔صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے دارالحکومت تہران میں اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے بے بنیاد دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست علاقے میں کشیدگی میں اضافے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو جنگ کے میدان میں لانا چاہتی ہے۔صدر مملکت نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایران نے کبھی بھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے کہا کہ جنرل اسمبلی کے میں صہیونی وزیراعظم کے اشتعال انگیز بیان کے مقابلے میں ایرانی وفد کی ہوشیاری نے اسرائیلی سازش کو ناکام بنادیا۔ صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کو اسرائیلی پالیسیوں سے متاثر قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو چاہیئے کہ ایران کی قوم کے خلاف اپنے معاندانہ رجحانات کو تبدیل کرے اس لئے کہ ان رجحانات کا جاری رہنا کسی بھی طور امریکی قوم اور امریکی حکومت کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اس درمیان اس درمیان ایک کہنہ مشق سیاستداں اور نظریہ پرداز کی حیثیت سے ہینری کیسنجر کا یہ بیان کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت ختم ہوتی جارہی ہے اور آئندہ دس سالوں میں اسرائیل کا وجود ختم ہوجائےگا قابل غور ہے۔ مبصرین کی نظر میں کیسینجر کی جانب سے اس بات کا اعتراف کہ امریکی یہودی لابی زیادہ عرصے تک اسرائیل کا دفاع کرنے کےلئے متفق نہیں رہ سکے گی اور آئندہ 2022 تک اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائےگا، اس حقیقت کو آشکارا کرتا کہ امریکیوں نے سمجھ لیا ہے کہ اسرائیل کی مزید حمایت ان کے فائدے میں نہیں ہے۔لیکن کیا امریکہ اس پر عمل کرسکے گا۔
.....
/169